ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شہر کے نالوں پر غیر قانونی قبضوں میں افسران ، سیاست دان اور بلڈرملوث

شہر کے نالوں پر غیر قانونی قبضوں میں افسران ، سیاست دان اور بلڈرملوث

Thu, 18 Aug 2016 12:23:23    S.O. News Service

بنگلورو17؍اگست(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور)برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی حدود میں بڑے نالوں پر غیر قانونی قبضوں کو ہٹانے کیلئے بی بی ایم پی کی طرف سے جاری انہدامی مہم کو محض ایک دکھاوا قرار دیتے ہوئے بی بی ایم پی کے سابق حکمران لیڈر این آر رمیش نے دعویٰ کیا کہ اس انہدامی مہم کے دوران سیاستدانوں ، افسران اور بلڈروں کی املاک کو یکسر نظر انداز کیاجارہا ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی بی ایم پی کی حدود میں13 سیاست دانوں، 71 افسران اور368 بلڈروں ، 150شاپنگ مال مالکان نے بڑے نالوں اور تالابوں کی 1.2لاکھ کروڑ روپے مالیت کی زمینات پر غیر قانونی قبضہ کررکھا ہے۔ بی بی ایم پی کو پہلے ان زمینات کو خالی کرانے پر توجہ دینی چاہئے۔غریبوں کے چھوٹے موٹے مکانات گراکر غیر قانونی قبضوں کو ختم نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ بڑے نالوں پر غیر قانونی قبضوں کوہٹانے کی آڑ میں غریبوں اور متوسط طبقات کے لوگوں کو بے گھر کیا جارہاہے، جبکہ تالابوں اور بڑے نالوں پر قابض بڑے بلڈروں ، سیاست دانوں اور سرکاری افسران پر مشتمل لٹیروں کو بخش دیا گیا ہے۔ غیر قانونی قبضوں کے متعلق اپنے پاس 15؍ ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات رکھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے این آر رمیش نے کہاکہ ان تمام دستاویزات کو وہ وزیر اعلیٰ سدرامیا کو پیش کریں گے، اور خاطیوں پر اپنے وعدہ کے مطابق فوجداری مقدمہ درج کرنے کیلئے کارروائی کرنے کی مانگ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے جن 20 افسران پر کارروائی کی ہے ان میں سے 7 افسران کی سفارش خود سدرامیا نے کی ہے۔ این آر رمیش نے کہاکہ شہر کے بڑے نالوں اور تالابوں پر غیر قانونی قبضوں میں سیاست دان کے جے جارج، آر وی دیوراج ، گروپا نائیڈو، راجو گوڈا، شامنور شیوشنکرپا، گووند راج سمیت 13 سیاست دان شامل ہیں۔اسی طرح منتری مال، ٹاٹا ہاؤزنگ سوسائٹی، نٹیش ،برگیڈ، باگمنے ٹیک پارک، مانیتا، سالارپوریہ سمیت 150 مال مالکان نالوں پر غیر قانونی قبضوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈالرس کالونی میں خود وزیر اعلیٰ سدرامیا کی رہائش گاہ غیر قانونی زمین پر تعمیر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 368سے زائد غیر قانونی عمارتوں میں سے 29 ٹیک پارک اور دیگر آئی ٹی بی ٹی کمپنیاں شامل ہیں۔ 


Share: